ايضاً
سوال
ایک شخص اہل سنت کا نکاح عرصہ ۱۴ر ماہ وسال کا ہوا ہوگا۔ آج تک لڑکی کے والدین نے شوہر کے پاس نہیں بھیجا اکثر یہ اوقات یہ کہتا رہا کہ مجھ کو بدلا دو یا کچھ رقم دو، اب عرصہ دو سال سے یہ ظاہر کیا کہ لڑکا شیعہ ہو گیا ہے جس کی بابت دیو بند کے علماء صاحبان سے دریافت کیا تو یہ بتلایا گیا ہے کہ لڑکا شیعہ ہو گیا ہے تو اس کا نکاح جائز نہیں رہا حرام ہو گیا۔ یہ تحریر برادری میں پیش کی جو جو گواہان کے دستخط ہیں وہ بتلاتے ہیں کہ لڑکے کو ہم نے شیعہ ہوتے نہیں دیکھا بلکہ ان ہی لوگوں کی زبانی سے سنا ہے۔ اگر واقعی نکاح حرام ہو گیا۔
جواب
اگر لڑکے نے شیعہ کے وہ عقائد اختیار کر لئے ہیں جن سے کفر لازم آتا ہے تو نکاح فسخ ہو گیا۔ اگر عقائد کفریہ اختیار نہیں کئے۔ تو نکاح فسخ نہیں ہوا تاہم بہتر یہ ہے کہ اس شخص کے عقائد سمجھا کر درست کر دیئے جائیں کیونکہ رفتہ رفتہ زیادہ خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔جس کا اثر عورت پر بھی پڑے گا۔ شیعہ کے عقائد کفریہ ہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔