دیو بندی اور بریلوی کے درمیان مناکحت
سوال
رضاخانی عقائد والوں کے یہاں سے شادی میں لڑکی لینا یا ان کے یہاں اپنی لڑکی دینا ہمارے لئے کیسا ہے؟
جواب
مولوی احمد رضا خاں صاحب نے لکھا ہے کہ وہابی سے نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں، مرد ہو یا عورت۔ اپنی لڑکی وہابی کو دینا ایسا ہے جیسا کتے کو دیدینا، یہ نکاح نہیں بلکہ جس نے اپنی لڑکی وہابی کو دیدی اس نے زنا کے واسطے دی ہے، سب اولاد حرامی ہوگی۔ وہابی کی لڑکی لینا بھی حرام اور گناہ ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔