عیسائی لڑکی سے نکاح
سوال
دین اسلام کی رو سے اہل کتاب سے نکاح کی اجازت ہے۔ اس مسئلہ کی رو سے کیا ایک مسلمان عیسائی رومن کیتھولک لڑکی سے شادی کر سکتا ہے۔ اس سلسلہ میں بچوں کے بارے میں کیا ہوگا؟ فریقین اس بات پر متفق ہیں کہ بچوں کو مذہب اسلام کی تعلیم پر اٹھایا جائے۔ لیکن لڑکی کو چرچ کی جانب سے شادی کی اجازت صرف اس وقت مل سکتی ہے جب کہ وہ یہ دعوی کرے کہ کم از کم بچوں کو پتھم (مذہبی رسم) کیا جائے۔ ان بچوں کے مذہب اسلام پر اٹھانے پر چرچ کو اعتراض نہیں ہے۔ کیا یہ شرط منظور کی جاسکتی ہے؟
جواب
اہل کتاب عورت سے مسلمان مرد کی شادی کی گنجائش ہے، لیکن اس میں مفاسد ہیں حضرت عمر نے اس سے منع فرمایا ہے۔ اس لئے جہاں تک ہو سکے ایسا قدم نہ اٹھایا جائے۔ اگر کوئی مسلمان کسی ایسے مقام میں ہو جہاں مسلم عورت نہ مل سکتی ہو اور دوسری جگہ سے بھی انتظام دشوار ہو اور اس کو معصیت میں مبتلا ہونے کا خطرہ ہو تو ایسی مجبوری کی حالت میں تنگی نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔