الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاملہ من الزنا سے نکاح

سوال

(۱) زید عمرو کے گھر دو تین سال سے رہتا ہے۔ عمرو کی ایک لڑکی ہندہ ہے۔ جس سے زید کی شادی طے پائی تھی لیکن ابھی ہندہ اور زید کا نکاح نہیں ہوا تھا۔ صرف ہندہ اور زید کے والدین نے بات چیت مکمل کر رکھی تھی۔ اس کی معلومات ہندہ اور زید دونوں کو تھی چنانچہ دونوں زید وہندہ ایک ہی گھر میں (عمرو کے یہاں) رہتے تھے جب کہ زید کا عمرو چھا لگتا ہے اس کی وجہ سے زید عمرو کے یہاں رہتا تھا، اسی اثناء میں زید نے ہندہ سے جماع کر لیا اور اس جماع کے نتیجہ میں حمل قرار پا گیا تو اس صورت میں زید کا ہندہ سے نکاح درست ہو گا یا نہیں؟ (۲)

جواب

(۱) زید کا اسی حالت میں ہندہ سے نکاح کر دیا جائے لیے (۲) کرسکتا ہے۔ (۳) اس کے دریافت کرنے کا ابھی وقت نہیں۔ جب بچہ پیدا ہو جائے اس وقت یہ لکھ کر دریافت کریں کہ نکاح سے اتنے روز بعد بچہ پیدا ہوا ہے۔ (۴) اگر ثبوت شرعی ہو جائے تو احکام بہت سخت ہیں مگران کے شرائط یہاں موجود نہیں۔ اس لئے توبہ واستغفار پر کفایت کی جائے ہم اور نکاح ہونے سے پہلے ان کو ہرگز ایک جگہ نہ ہونے دیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو