الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حاملہ سے نکاح

سوال

ایک کنواری لڑکی نے زنا کرایا اور اس کو زنا کرانے سے حمل رہ گیا اور یہ بات مشہور ہوگئی پھر اس لڑکی کا نکاح اس حمل ہی کے زمانہ میں ہو گیا اور جس کے ساتھ نکاح کیا گیا اس کو بھی اس کا علم ہے اور اس نے اس کے ساتھ وطی بھی کی ہے تو آیا یہ نکاح درست ہوایا نہیں۔ اب اس کے بچہ پیدا ہو چکا ہے اس کا پہلا نکاح ہی کافی ہے یا دوبارہ نکاح کرایا جائے؟

جواب

جو عورت زنا سے حاملہ ہو اس سے نکاح مفتی بہ قول پر درست ہے اور جس سے وہ حمل ہے اگر اسی سے نکاح ہو تو وطی بھی درست ہے اور اگر کسی دوسرے سے نکاح ہو تو وضع حمل سے پہلے وطی درست نہیں تاہم اگر وطی کر لی ہے تب بھی دوبارہ نکاح کرنے کی ضرورت نہیں پہلا ہی نکاح کافی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو