الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

پیر کی بیٹی سے نکاح

سوال

ایک جنگل میں باپ اور بیٹا دونوں کام کر رہے تھے باپ نے بیٹے سے کہا کہ تم کس کے مرید بنو گے؟ تو لڑکے نے کہا میں اپنے ماموں کا بالک بنوں گا۔ تو باپ نے کہا کہ ماموں کی لڑکی تیرے گھر میں ہے، جب تو ماموں کا مرید بننا چاہتا ہے تو تیرا نکاح اس کی لڑکی سے ہے اس سے تو بہتر ہے کہ اپنی بہن سے نکاح کر لیتا۔ تو لڑکے نے جواب دیا کہ بالک یا مرید بنوں گا تو ماموں کا۔ اس کے بعد اس لڑکے نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی اور طلاق باپ کے سامنے دی۔ ویسے نہ مرضی طلاق کی تھی اور نہ اب ہے۔ دونوں میاں بیوی ایک ہونے کو کہتے ہیں۔

جواب

پیر کی لڑکی سے نکاح جائز ہے وہ حقیقی بہن کی طرح نہیں۔ حضرت نبی اکرم صلى الله عليه وسلم پیر اور مربی تھے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضور اکرم صلى الله عليه وسلم کی بیٹی حضرت علی رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں۔ بیٹے نے جب تین طلاق دی تو طلاق مغلظہ ہوگئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو