الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بھتیجے کی مطلقہ سے نکاح کی وجہ سے ترک تعلق

سوال

ایک شخص مر گیا ہے اس نے ایک بھائی اور ایک لڑکا چھوڑا یہ لڑ کا شادی شدہ ہے۔ اس نے کسی وجہ سے اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ بعد عدت اس کے چچانے خود اس سے نکاح کر لیا ہے۔ پس یہ نکاح درست ہے یا کہ نہیں؟ اگر درست ہے تو پھر گاؤں یا خاندان والوں کا اس بنا پر اس سے ترک تعلق درست ہے یا کہ نہیں؟ اور ترک تعلق بھی ایسا کہ اگر اس کے خاندان میں کوئی مر گیا ہے تو نماز جنازہ کوئی نہیں پڑھے گا، اور نہ اس کا کھانا مہیا کریں گے۔ پس اس مسئلہ کا تشفی بخش جواب دیا جائے۔

جواب

بھتیجے کی بیوی سے اگر کوئی دوسرا رشتہ حرمت کا نہ ہو تو اس سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے۔ جب طلاق کے بعد عدت گزار کر نکاح کیا ہے تو اس پر اعتراض کرنا غلط ہے اور اس کی وجہ سے ترک تعلق کر دینا ظلم ہے اور نماز جنازہ میں شرکت نہ کرنا گناہ ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو