الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زوجہ ربیب سے نکاح

سوال

(۱) زید نے ایک عورت سے نکاح کیا جس کے ساتھ ایک لڑکا بھی ہے زید نے اس لڑکے کا بھی نکاح کر دیا۔ اس کے بعد وہ عورت ولڑکا فوت ہوگیا تو زید سوتیلے بیٹے کی بیوی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) اگر لڑکے کی والدہ زندہ زید کے نکاح میں ہو جب بھی زید اپنے اس سوتیلے لڑکے کی بیوی سے نکاح کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) اگر کوئی اور مانع شرعی موجود نہیں تو کر سکتا ہے لقوله تعالى احل لكم ما وراء ذلكم سوتیلا بیٹا شرعی بیٹا نہیں کہ اس کی بیوی سے نکاح ناجائز ہو۔ (۲) اس صورت میں بھی یہ نکاح جمع جائز ہے اگر اس لڑکے کی والدہ اور اس کی بیوی میں کوئی اور مانع نکاح رشتہ داری نہ ہو۔ فجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجها اوامرأة ابنها الخ. در مختار ص ۱۸۸ / ج ۱ /

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو