ربیبہ اور سوتیلی ماں کو نکاح میں جمع کرنا
سوال
بکر کی منکوحہ ہندہ کے بطن سے ایک دختر زبیدہ ہے اور لڑکی کا نکاح زید سے کیا گیا اور زید کی اس منکوحہ زبیدہ کے بطن سے دو طفل ہوئے اسی دوران میں بکر کی منکوحہ ہندہ فوت ہوگئی اس نے سکینہ سے نکاح کر لیا اور ایک لڑکا تولد ہوا بکر کے فوت ہو جانے کے بعد زید نے زبیدہ کی موجودگی میں سکینہ سے نکاح کر لیا اور ایک ماہ بعد سکینہ کے کہنے پر زبیدہ کو طلاق دیدی۔ کیا از روئے شرع یہ نکاح جائز ہے یا نہیں اگر نہیں تو نکاح خواں اور گواہان حضور نکاح کیلئے کیا حکم ہے؟
جواب
شرعا یہ نکاح جائز ہے در مختار برحاشیہ شامی ص ۴۳۹ ج ۲ کتاب النکاح فصل في المحرمات میں فجاز الجمع بين امرأة وبنت زوجھا پس جائز ہے نکاح میں جمع کرنا ایک عورت کو اور اس کے شوہر کی لڑکی کو، زبیدہ صورت مسئولہ میں سکینہ کے شوہر (بکر کی) لڑکی ہے۔ زید نے ہر دو کو نکاح میں جمع کر لیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔