الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

سوتیلے ماموں سے نکاح

سوال

(۱) زید نے اپنی لڑکی کا نکاح اپنے علاقی ماموں سے کر دیا علاقی ماموں اور حقیقی والدہ کا والد ایک ہے اور والدہ مختلف ہیں۔ شرعاً یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ (۲) اگر نہیں تو نکاح کے موقع پر جو لوگ واقف کار تھے اور نکاح میں موجود تھے ان کے ساتھ شریعت کیا حکم رکھتی ہے؟ (۳) زید کے ساتھ اسکی لڑکی کی اولاد کے ساتھ میل جول برتاؤ کے متعلق شریعت کیا حکم دیتی ہے؟ (۴) ہر چہار اماموں میں سے کسی امام صاحب کے مذہب میں درست ہو تو بھی مطلع فرمایا جائے؟

جواب

(۱) یہ نکاح شرعاً جائز نہیں ويحرم اخته لاب وام او لاحدهما لقوله تعالى (۲) جولوگ واقف ہونے کے باوجود اس نکاح میں شریک ہوئے وہ سب گنہ گار ہوئے سب کو توبہ لازم ہے اور ان دونوں میں تفریق ضروری ہے۔ (۳) اگر زید اپنی لڑکی اور داماد میں تفریق نہ کرائے اور وہ دونوں متارکت نہ کریں تو ان سے تعلقات ترک کر دیئے جائیں تا کہ وہ تنگ آکر توبہ کریں گے (۴)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو