سوتیلی ساس سے زنا پھر نکاح
سوال
ایک شخص نے اپنی سوتیلی ساس سے زنا کیا جس سے حمل بھی ہو گیا اور اس حمل کی حالت میں اس سے نکاح کر لیا آیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں؟ نیز سوتیلی ساس سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں؟ ایسے شخص کے متعلق جس نے اپنی سوتیلی ساس سے زنا کیا ہو پھر حمل کی حالت میں اس سے نکاح کر لیا ہو قرآن مجید احادیث صحیحہ اور فقہ اسلامیہ کا کیا حکم ہے؟
جواب
زنا کرنا قطعاً حرام ہے۔ اگر شرعی طریق پر زنا کا ثبوت ہو جائے تو حکومت اسلامیہ میں زانی اور زانیہ پر حد زنا جاری کرنا لازم ہے۔ یہ اپنی سوتیلی ساس یعنی اپنی بیوی کی سوتیلی ماں سے نکاح کرنا شرعاً درست ہے خواہ بیوی زندہ ہو۔ خواہ مر چکی ہو۔ بخلاف الجمع بين امرأة وبنت زوجها فانه يجوز اھ مجمع الأنهر ص ۳۳۶ ایسی حاملہ سے بھی نکاح درست ہے اگر وہ حمل اس نکاح کرنے والے کا ہے۔ (زنا سے)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔