الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عدت میں نکاح اور صحبت سے ممانعت

سوال

متوفی کے ورثاء نے امام مسجد سے کہا کہ ہمیں عورت کے اغواء ہونے کا خطرہ ہے اسی لئے کسی طرح جلد از جلد اس کا نکاح ہمارے خاندان کے فلاں آدمی سے کردو۔ امام مسجد نے ایک اور مولوی صاحب سے مشورہ لیا جس نے کہا عدت گزرنے سے پہلے نکاح نہیں ہو سکتا۔ مگر عورت کو ڈرانے کے لئے آپ نکاح پڑھ دیں اور عورت کو کہدیں کہ بس اب تیرا نکاح ہو گیا ہے، مگر خاوند کو اس مدت میں صحبت سے منع کر دیں تا کہ وہ زنا کا مرتکب نہ ہو۔ پھر جب عدت گزر جائے گی تو از سر نو نکاح پڑھنا اور اس کے بعد عورت خاوند پر حلال ہوگی۔

جواب

حالت عدت میں نکاح کی بات اور وعدہ لینا بھی ناجائز ہے۔ قرآن کریم میں ممانعت آئی ہے۔ قرآن کریم کی قدر نہ کرتے ہوئے اپنی مصالح کو پیش نظر رکھ کر یہ غلط کام کیا گیا، جس کے نتیجہ میں مرد اور عورت حرام کاری میں مبتلا ہوئے اور مصلحت بھی فوت ہو گئی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو