الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

طلاق رجعی میں دو حیض کے بعد نکاح

سوال

زید نے اپنی بیوی کو ایک طلاق رجعی دیا تھا۔ صرف دو حیض عورت کو آئے تھے کہ لڑکی کے ولی نے دوسری شادی کر دی۔ کیونکہ گھر والوں کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس کی شادی ہوگئی ہے۔ حالانکہ پہلا نکاح اگر چہ پوشیدہ ہوا تھا لیکن ایسے دو گواہوں کے سامنے ہوا تھا جولڑکے کے گھر والوں کو جانتے ہیں۔ اور لڑکی کے گھر والوں کو ایک گواہ اچھی طرح جانتا ہے۔ دوسرے گواہ کو مقام وغیرہ کا نام اور لڑکی کے باپ کا نام بتا کر شناخت دیدی گئی تھی۔ لہذا وہ بھی واقف ہو گیا۔ اب جواب طلب امر یہ ہے کہ نکاح اول ہوا یا نہیں؟

جواب

پہلا نکاح دو گواہوں کے سامنے کفو میں ہوا تو وہ صحیح ہو گیا تھا۔ پھر اگر بعد وطی کے طلاق رجعی دی تو اس کی عدت (تین حیض) لازم تھی صرف دو حیض آنے پر دوسرا نکاح غلط ہوا۔ فاسد ہوا دونوں میں علیحدگی لازم ہے کہ جب تیسرا حیض آجائے تب اس دوسرے شخص سے دوبارہ نکاح کیا جائے۔ نکاح فاسد میں وطی کی صورت میں مہر بھی لازم ہوتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو