خطبہ پہلے ہو یا ایجاب وقبول؟ اور قاضی ووکیل کا الگ الگ ہونا
سوال
یہاں پر پہلے ایجاب وقبول کرایا جاتا ہے پھر خطبہ پڑھا جاتا ہے اور وجہ یہ بتلاتے ہیں کہ ایجاب وقبول واجب ہے اور خطبہ سنت ہے۔ اس لئے ایجاب وقبول پہلے ہونا چاہئے اور خطبہ بعد میں۔ نیت ایجاب وقبول اس طرح کرائی جاتی ہے کہ فلاں کی صاحبزادی فلاں صاحب کی وکالت اور فلاں فلاں کی شہادت میں اپنے نفس کو بعوض اتنے اتنے آپ کی زوجیت میں دیا کیا آپ نے قبول کیا؟ (ألف) سوال یہ ہے کہ سنت طریقہ کیا ہے کہ پہلے ایجاب وقبول ہو یا نہ ہو؟ (ب)
جواب
(الف) پہلے خطبہ پڑھا جائے پھر ایجاب وقبول کرایا جائے یہ بات کہ فرض پہلے ہوسنت بعد میں ہو، قاعدہ کلیہ نہیں۔ وضو میں کلی کرنا اور ناک میں پانی ڈالنا سنت ہے۔ منھ دھونا فرض ہے۔ سنت پہلے ادا کی جاتی ہے فرض بعد میں۔ فجر کی نماز میں سنت دورکعت پہلے پڑھتے ہیں فرض بعد میں پڑھتے ہیں۔ (ب) یہ صورت بھی درست ہے۔ قاضی بھی وکیل ہوسکتا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔