زنا کا حمل پیدا ہونے کے بعد حالت نفاس میں نکاح
سوال
ایک کنواری لڑکی کے زنا کے ذریعہ بچہ پیدا ہوتا ہے۔ پھر اس کا نکاح مسنونہ ایام نفاس ختم ہونے سے قبل کیا جاتا ہے اور قاضی جو کہ محلہ کی مسجد کے امام بھی ہیں ان ہی کے گھر میں وہ لڑکی رہتی ہے اور زنا اور ولادت کا واقعہ قاضی صاحب کی اہلیہ اور دوسرے آدمیوں کا چشم دید ہے۔ اب ایسی صورت میں اس لڑکی کا نکاح پڑھانا کیسا ہے؟ آیا قاضی کو مکمل علم ہوتے ہوئے پھر نکاح پڑھانا اس پر کوئی گناہ عائد ہوگا یا نہیں؟ اور وہ لڑکا جس کے ساتھ نکاح ہورہا ہے۔ اسکو اس واقعہ کا بالکل علم نہیں ہے۔
جواب
حالت نفاس میں نکاح جائز ہے، البتہ صحبت ناجائز ہے، جیسے کہ حالت حیض میں نا جائز ہے۔ جب لڑکا اس کے پاس آئے گا تو وبتادے کہ اس حالت میں صحبت درست نہیں۔ لیکن اگر لڑکے کو یہ بتایا گیا کہ یہ لڑکی باکرہ ہے نہ اس کے اولاد ہوئی ہے اور نہ نکاح ہوا ہے تو یہ بتانا غلط ہے اور جھوٹ ہے۔ ایسا بتانے والے گنہ گار ہوئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔