جو عورت اپنے آپ کو بیوہ بتلائے اس سے نکاح
سوال
(۱) بنگلہ دیش سے کچھ عورتیں آتی ہیں جن کے ساتھ آتی ہیں وہ آدمی ادھر اُدھر چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اب وہ عورتیں ادھر اُدھر مانگتی کھاتی پھرتی ہیں اور اپنے کو بیوہ بتلاتی ہیں، ان کے بیوہ بتلانے کے مطابق ادھر کے آدمی ان سے نکاح کر سکتے ہیں یا نہیں؟ صحیح تحقیق نہیں کہ وہ بیوہ ہیں یا نکاح شدہ ہیں؟
جواب
اگر دل گواہی دے کہ وہ عورتیں بیوہ ہیں اور ان کی عدت ختم ہو چکی ہے تو ان سے نکاح کرنا درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔