الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مغالطہ سے ناپسند لڑکی سے نکاح

سوال

زید کی شادی ایک شخص کے یہاں طے ہوئی۔ اس شخص کے یہاں اس روز دو باراتیں آئی تھیں۔ جب نکاح ہو چکا تب معلوم ہوا کہ زید کا نکاح اس لڑکی سے ہو گیا ہے جس کو وہ نہیں چاہتا تھا اور نہ ہی اس لڑکی سے زید کا نکاح طے ہوا تھا۔ اب زید اس غلط شادی کی وجہ سے سخت پریشان ہے اور وہ اس لڑکی کو طلاق دینا چاہتا ہے۔ کیا وہ طلاق دے سکتا ہے؟

جواب

جس لڑکی سے نکاح نہیں چاہتا تھا، مغالطہ میں اگر اس سے ایجاب وقبول ہو گیا تو بہتر یہ ہے کہ اس پر صبر کرے اور اس کو آباد کرے۔ لیکن اگر اس سے نباہ ہی دشوار ہو یا اس سے نکاح میں دوسری مصالح مانع ہوں اور حقوق ادا نہ کر سکے تو اس کو طلاق دیدے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو