دو عورتوں سے دو دفعہ نکاح کیا چار کے حکم میں ہے؟
سوال
(۱) ایک مسلمان ہے جو کہ حنفی مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ قرآن وسنت کا پابند ہے، میرا قریبی بھائی ہے۔ اس نے پہلے ایک نکاح کیا ہے (الف کے ساتھ) پھر اس کو طلاق دے کر دوسری شادی کر لی (ب کے ساتھ) ایک سال کے بعد اس کے ساتھ بھی ان بن ہو گئی اور (ب) کو بھی طلاق شرعی لکھ کر عدالت سے دے دی نہ کہ تین عدتوں میں جس طرح شریعت کہتی ہے۔ کچھ عرصہ (۸/ ماہ) ہوا تو یہ عورت (ب) نادم ہو کر آئی اور اس نے شادی کرنی چاہی وہ دونوں عدالت میں گئے اور وہاں ایک بیان حلفی پبلک نوتری سے تصدیق کرا کے شادی دوبارہ رچائی اور کوئی خطبہ نکاح انجام نہ پایا۔
جواب
(۱) شخص مذکور نے (ب) کو جو طلاق شرعی لکھ کر دی ہے وہ بعینہ یا اس کی نقل ارسال کریں اس کو دیکھ کر معلوم ہو سکے گا کہ پھر اس سے جو دوبارہ نکاح کیا ہے اس کی اجازت شرعا تھی یا نہیں۔ نیز بتائیں کہ دوبارہ نکاح گواہوں کے سامنے ایجاب وقبول سے ہوا ہے یا پہلی طلاق سے رجعت کی ہے اور پہلے نکاح ہی کو باقی رکھا گیا ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔