نکاح کا مسنون طریقہ جس میں وکیل قاضی بھی ہو،حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح کس نے پڑھایا؟
سوال
نکاح پڑھانے کا جو مروجہ طریقہ ہے کہ ایک شخص لڑکی کی جانب سے وکیل ہوتا ہے جو ہر دو گواہوں کو اپنے ہمراہ لے کر لڑکی کے پاس جاتا ہے اور اس سے اس کے نفس کی بابت رضامندی اور مہر کی مقدار معلوم کر کے نکاح خواں کے پاس آتے ہیں اور نکاح خواں دونوں گواہوں کی موجودگی میں وکیل سے برضا اجازت نفس اور مقدار مہر کا سوال کرتا ہے جسے وکیل دو گواہوں کی شہادت کے ساتھ بیان کرتا ہے، پھر نکاح خواں نکاح پڑھاتا ہے۔ سارے ہندوستان میں یہی طریقہ جاری ہے۔
جواب
اگر لڑکی بالغہ ہو تو ولی اس سے کہہ دے کہ فلاں لڑکے سے تمہارا نکاح اتنے مہر پر کرتا ہوں، کیا تم کو منظور ہے؟ انکار تو نہیں ہے۔ پھر گواہوں کے سامنے خود لڑکے سے ایجاب وقبول کرادے یا نکاح خواں کے ذریعہ ایجاب وقبول کرا دے۔ بس اس سے نکاح درست ہو جاتا ہے۔ جو طریقہ مروج ہے یہ رجسٹر میں اندراج کی مصلحت سے ہے کہ اگر عدالت میں معاملہ جائے تو متعینہ گواہوں کے ذریعہ ثبوت آسان رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔