الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

باہمی مخالفت ضد کی بنا پر، زوجین کی عمر میں تناسب،فعل رسول صلى الله عليه وسلم پر اعتراض اور اس کا حکم

سوال

آج کل بعض مسلمان بوجہ اپنی جہالت وکم فہمی کے لڑکے لڑکی کی شادیوں میں باہمی رنجشوں اور عداوتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک دوسرے کو نقصان وزک پہونچانے کے لئے جھوٹی درخواستیں عدالتوں اور تھانوں میں گذرا کر شادیاں رکوا دیتے ہیں اور احکام خدا ورسول کو بالکل پس پشت ڈالتے ہیں اس طرح بندگان کو ناحق لٹوا کر اپنا مطلب نکالتے ہیں اور جائز کو نا جائز کر کے گنہگار ہوتے ہیں اور جناب رسول اللہ ﷺ کی شادی مبارک ہمراہ حضرت ام المومنین جناب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے وقت حضرت نبی اکرم ﷺ کی عمر مبارک ۵۰ سال کی اور ام المومنین کی عمر…

جواب

آپس میں لڑائی رکھنا اور ایک دوسرے کو نقصان پہنچانا جھوٹی درخواستیں دے کر شرعاً نا جائز اور گناہ ہے۔ حدیث شریف میں ایسی چیزوں کی سخت ممانعت آئی ہے۔ حضور اقدس ﷺ کے کسی کام میں عیب نکالنا اور تحقیر کرنا کفر ہے ایسی چیز سے ایمان جاتا رہتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو