اعلان نکاح کے مصالح
سوال
آپ نے یہ فرمایا ہے کہ”نکاح سے پہلے یا نکاح کے بعد اعلان ہو۔“اعلان ہونا سخت خطرناک امر ہے خاکسار کی تو یہ ہی عرض ہے کہ خفیہ نکاح کی اطلاع خاص قاضی اور دو گواہوں کو ہو اور کسی بچہ تک کو بھی نہ معلوم ہو سکے کیونکہ پوشیدہ نکاح سے لوگوں سے کسی قسم کا فتنہ فساد نہیں ہوتا ہے۔ اگر نکاح سے پہلے یا بعد میں اطلاع دی جاوے تو سخت نقصان کا باعث ہوتا ہے۔ صرف خادم کی یہ عرض ہے، نکاح کی اطلاع اعلان تا زندگی معلوم نہ ہو آپ یہ فرما دیں کہ تا زندگی کے لئے خفیہ نکاح جائز ہو جائے گایا نہیں؟
جواب
شرعاً نکاح صرف دو گواہوں کے سامنے منعقد ہو جاتا ہے۔ البتہ اس کا اعلان کرنا مستحب ہے۔ اس میں بھی بہت سی مصلحتیں ہیں، مثلاً اگر دو گواہوں میں سے ایک گواہ کہیں چلا گیا یا مر گیا اور عورت نے نکاح سے انکار کر دیا تو قضاء ثبوت میں دشواری ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔