موروثی اور ذخیل کاری کی آمدنی
سوال
موروثی کاشت اور ذخیلکاری کی آمدنی کے تصرف کی بابت علماء دین کا کیا حکم ہے، چونکہ موروثی کاشت دو قسم کی ہوتی ہے، اول موروثی قانون جدید، دوم موروثی سابقہ جو زمانہ بند و بست سرکاری سے چلی آتی ہے، فتوی سے مشرف فرماویں؟
جواب
موروثی زمین سے جو آمدنی کاشتکاروں کو حاصل ہے، اس سے جتنا اس نے خرچ کاشت میں کیا ہے، اتنا تو رکھنا جائز ہے، باقی رکھنا جائز نہیں، یہ تو آمدنی کا حکم ہے، اور زمین کا حکم یہ ہے کہ آئندہ کے لئے اس کو چھوڑ دے، ورنہ ظلم اور گناہ اور غصب میں مبتلا رہے گا۔ ”لقوله عليه السلام لا يحل لاحدان يأخذ متاع اخيه لاعباً ولا جاداً فان أخذ فلیرده علیه “ ہدایہ ج ۳ ص ۳۴۳
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔