الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غیر مملوک زمین میں بونے سے ملکیت

سوال

خلاصہ یہ ہے کہ یہاں پہاڑی جنگلات میں کاشتکاری نہیں ہوتی، بلکہ مویشی چرانے کا جنگل ہوتا ہے، چھ ماہ کے لئے اس جنگل میں مویشی چرتے ہیں، گورنمنٹ کا محکمۂ جنگلات فی بھینس ۱۲ روپیہ چھ ماہ کا ٹیکس لیتی ہے، جنگلات میں کچھ لوگ قدیم باشندے ہوتے ہیں، وہ لوگ بعض جگہ سبزی وغیرہ لگا دیتے ہیں، یہ لوگ ٹیکس وغیرہ کچھ نہیں دیتے، تو ان جگہوں پر جس کو گورنمنٹ کرایہ پر دیتی ہے، سبزی وغیرہ لگانا جائز ہے یا نہیں؟ افسران کہتے ہیں کہ تم ان کو نکال کر پھینک دو، تو ٹیکس والے لوگ ان کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

غیر مملوکہ زمین میں جس نے جو کچھ بودیا وہ اس کا ہے، دوسرے کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں، لیکن اگر زمین کو مالک سے کسی نے کرایہ پر لیا ہے، تو اس میں دوسرے شخص کو کاشت کرنے کا حق نہیں، اس کی اجازت ہے، کہ اس کی سبزی وغیرہ اُکھاڑ کر پھینک دے، وہذا ظاہر، فی بھینس ٹیکس دینے سے سب زمین کرایہ پر شمار نہیں ہوگی۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو