مسجد کی زمین کو زراعت کے لئے دینا
سوال
مسجد کی کچھ زمین ہے اور اس کی نیلامی لگا دی جاتی ہے، کہ جو غلہ زیادہ دے اس کو وہ زمین دیدی جاتی ہے، اس زمین میں ایک تالاب بھی ہے، جس میں برسات کا پانی جمع ہو جاتا ہے، اس سے اس زمین کی آب پاشی ہوتی ہے، مندرجہ ذیل شرائط بھی ہوتی ہیں۔ (۱) تالاب پورا بھرنے اور پڑوس کا کھیت بو جانے پر کاشتکار کو پورا غلہ دینا ہوگا۔ (۲) اگر قحط سالی ہو جائے تو اس کی بوئی معاف کر دی جاتی ہے۔ (۳) لگان مسجد کی طرف سے ادا کیا جاتا ہے، باقی خرچ کا شتکار کو برداشت کرنا ہوتا ہے، لہذا نیلامی کا یہ طریقہ درست ہے یا نہیں؟
جواب
اگر زیادہ غلہ کا مطلب مثلاً ۳/۱ یا ۵/۱ وغیرہ تشریح کے ساتھ ہے، تو یہ بولی اور معاملہ شرعاً درست ہے، اس میں پیداوار کی حسب قرارداد تقسیم ہوگی، اگر زیادہ غلہ کا مطلب بالقطع غلہ کی تجویز ہے، مثلاً دس من بیس من وغیرہ اور اس میں یہ شرط نہیں کہ اس زمین کا پیدا شدہ غلہ دینا ہوگا، تو نقد معاوضہ کی طرح یہ بھی درست ہے، یعنی جس طرح دس روپیہ بیس روپیہ وغیرہ کوئی معاوضہ اجرت تجویز کر لینا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔