دوسرے کا کبوتر اپنے گھر آجائے تو کیا کرے
سوال
ایک کبوتر زید کے گھر میں باہر سے آکر رہ گیا، اور مدت تک رہا، جس کو زید نے بھگایا، مگر اُڑ کر پھر اس کے بالا خانہ میں رہنے لگا، یہاں تک کہ زید بھگاتا رہا، اور وہ اڑتا پھر آجاتا، اب اس کے دو چار بچے ہو چکے ہیں، اور کبوتروں کا سلسلہ بڑھنے لگا ہے، زید کی عدم موجودگی میں بچوں نے چند کبوتر ذبح کر کے کھا لئے، غالباً یہ کبوتر محلہ کے کسی ہندو کا ہے، تو اب کیا کیا جائے؟
جواب
اگر وہ کبوتر جنگلی نہیں بلکہ پلا ہوا ہے، اور معلوم ہے کہ فلاں شخص کا ہے، تو اس کو وہ واپس کر دیں، پھر اگر وہ مادہ ہے تو اس کے بچے بھی اسی کے مالک کے ہونگے، جو بچے ذبح کر کے کھائے ہیں، ان کی قیمت اور جو بچے موجود ہیں وہ بھی مالک کو دیں، یا اس سے خرید لیں، اگر وہ نر ہے تو صرف وہی مالک کو واپس کریں، اور اس کی وجہ سے جو بچے ہوئے، وہ اس کے نہیں نہ قیمت ادا کرنے کی ضرورت ہے، نہ واپس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔