مالک نے کہا کہ باغ کا جو پھل جو لیلے وہ اسی کا
سوال
زید ایک پھل کے درخت کا مالک ہے، پھل آنے پر جو پھل پک کر تیار ہو گئے ہیں، وہ زید اُتار لیتا ہے، اور جو ابھی کچے ہیں ان کے متعلق کہتا ہے کہ جو چاہے استعمال کرے، یعنی اپنی ملکیت سے خارج کر دیتا ہے، کیا ایسے پھل ہر کس و ناکس کو استعمال کرنا جائز ہے اور کیا یہ پھل وقف کئے جا سکتے ہیں؟
جواب
مالک نے ان کچے پھلوں کو دوسروں کے لئے مباح کر دیا، لہذا دوسرے لوگ بھی لے سکتے ہیں لیکن اپنی ملکیت سے خارج نہیں کیا، نہ کسی کو مالک بنایا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔