الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لقطہ میں تصرف

سوال

ایک شخص نے اپنی اہلیہ کے ساتھ پاکستان کا سفر کیا، باؤڈر پر واپسی میں ایک تھیلا ملا جس میں کپڑا وغیرہ تھا، باؤڈر سے نکل کر شوہر کو معلوم ہوا، ابھی تک دوسرا باؤڈر پار نہیں ہوا تھا، اس کی تحقیق کی مگر مالک کا پتہ نہ چلا، باڈر پر کسٹم وغیرہ بھی اس پر لگا، پھر گھر آ کر اہلیہ نے کچھ کپڑے اس میں سے سلوائے، شوہر نے مسئلہ معلوم کیا تو کیا ایسی صورت میں اس لقطہ کو صدقہ کیا جائے، جبکہ سلائی و کسٹم وغیرہ خرچ ہوا یا کپڑے کی اصل قیمت صدقہ کر دی جائے؟

جواب

اگر مالک کا پتہ نہ چلے اور پوری کوشش کے باوجود نا کامی ہی رہے تو وہ کپڑا بحیثیت لقطہ صدقہ کر دیا جائے، اور اس پر جو کچھ سلائی اور کسٹم میں خرچ ہوا ہے، اس کو اس میں سے وضع نہ کیا جائے، یہ خرچہ مالک کو تلاش کرنے یا کپڑے کی حفاظت کرنے میں نہیں ہوا، بلکہ اپنے مقصد کے لئے ہوا ہے

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو