عورت کے ذمہ نماز عید نیز رفع یدین وغیرہ
سوال
میں نے سنا ہے کہ عورت نماز عید نہ گھر اور نہ عید گاہ میں پڑھے، گویا عورت پر واجب نہیں، اسکے متعلق جلد آگاہ کریں۔ عورت اگر نماز جمعہ جامع مسجد میں پڑھے تو کیسا ہے؟ جو جماعت اہل حدیث کہلاتی ہے وہ قرآن میں آیتیں نکال نکال کر دکھاتی ہے اور کہتی ہے کہ حضور اکرم ﷺ نے صرف اللہ اکبر کہہ کر نماز پڑھنے کو منع فرمایا ہے۔ یہ نہیں کہ تمام نماز کو بیان کر کے یعنی اتنی رکعت فرض یا سنت واسطے اللہ پاک کے میرا منہ کعبہ شریف کے اور اللہ اکبر یہ غلط ہے اور کہتے ہیں کہ رفع یدین کو قصداً کیا ہے اور ہمیشہ کیلئے کیا ہے۔
جواب
عورت پر نماز عیدین نہیں، نہ اس کے ذمہ عید گاہ میں جانا ہے، نہ گھر پر نماز عید لازم ہے عورت پر جمعہ بھی نہیں، اسکو چاہئے کہ اپنے گھر پر ظہر کی نماز ادا کرے، جمعہ کیلئے جامع مسجد نہ جائے، اگر دل کے ارادہ کو زبان سے بھی کہے تو منع نہیں، قرآن پاک میں کہیں نہیں لکھا کہ حضور اکرم ﷺ نے صرف اللہ اکبر کہہ کر نماز پڑھنے کو کہا ہے، کسی حدیث شریف میں یہ نہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے رفع یدین…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔