عورتوں کا نماز عید کیلئے مسجد میں جانا
سوال
عورتیں آج کل عید کی نماز مسجد میں پڑھتی ہیں لیکن اس سال بعض علماء اسے بدعت قرار دے کر عورتوں کو عید گاہ لے گئے، عید گاہ کے پیچھے کی طرف چاروں طرف سے بند کر دیا اس کے اندر عورتوں نے نماز پڑھی (چند عورتیں) بعض مولویوں نے وبعض علماء نے فتوی دیا کہ مسجد میں عورتوں کا نماز پڑھنا بدعت ہے، تو اس کا ثبوت دیجئے، تو ثبوت و دلائل کا پیش کرنے سے انکار نیز وہ خطیب بھی ہے، جامع مسجد کے، اب عوام بگڑی ہوئی ہے کہ وہ بدعت کا ثبوت پیش کرے ورنہ ان کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔
جواب
عورتوں پر عید کی نماز نہیں (مراقی الفلاح) لہذا وہ نہ مسجد میں عیدین کی نماز پڑھنے جائیں نہ عید گاہ میں، پنچگانہ نماز کے لئے بھی ان کو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں؟ حضور اکرم ﷺ نے حدیث پاک میں ارشاد فرمایا ہے کہ عورت کا اپنے گھر میں نماز پڑھنا میری مسجد (نبوی) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے، یہاں کی کوئی مسجد یا عید گاہ مسجد نبوی کے برابر نہیں ہو سکتی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔