عید کا جھنڈا اور عورت کا خطبہ عید
سوال
ہمارے یہاں عید، بقر عید، اور شب قدر میں جھنڈا اٹھاتے ہیں، مقصد صرف لوگوں کو بتلانا ہے کہ لوگ آ گاہ ہو جائیں، یہ کیسا ہے؟ اور عورتیں اطراف واکناف سے آتی ہیں اور عید الفطر کی نماز ادا کرتی ہیں اور عورتیں ہی خطبہ دیتی ہیں، تقریر کرتی ہیں، مدرسہ کے لئے چندہ بھی وصول کرتی ہیں، یہ کیسا ہے؟
جواب
عید بقر عید کی اطلاع کیلئے جھنڈا اٹھانا ثابت نہیں، عورتوں کا عید کی جماعت کرنا عورت ہی امام ہوا اور خطبہ پڑھے شرعاً ممنوع ہے، یہ جھنڈا بھی بند کیا جائے اور عورتوں کا اس طرح عید پڑھانا بھی بند کیا جائے، غلط کام کر کے مدرسہ کو چلانا کار خیر نہیں، صحیح طریقہ پر کوشش کی جائے، اللہ پاک نصرت فرمائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔