عورتوں کا عیدگاہ میں جانا
سوال
عید کی نماز کے لئے آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ بچوں اور عورتوں کو ساتھ لیکر آیا کرو اور تاکید فرمائی ہے، مگر میں نے اس کا چرچا کبھی آپ بزرگوں میں نہیں سنا ہے اس کی کیا وجہ ہے کہ گنگوہ اور گردونواح کے علماء نے اس کی تاکید نہیں کی یہ ہمارے یہاں کے رسمی پردہ کی وجہ سے ہے، تو کوئی مذہب کی ادائیگی آپ کی سوسائیٹی اور رسم کی وجہ سے ادھوری رکھی جاسکتی ہے، تمام لوگ اگر اس کی پابندی نہ کریں اور قرآن وحدیث پر سوسائیٹی کی رسومات ورواج کو ترجیح دے تو دوسری بات ہے مگر علماء دین تو شاید بھی بھی رسومات کو دین پر ترجیح نہ دیں مجھے اس کی…
جواب
ابتداء عورتوں کو مسجد اور عید گاہ میں جانے کی اجازت تھی بلکہ عید گاہ میں تو حالت حیض میں بھی اجازت تھی اگر چہ نماز میں نہ شریک ہوں، پھر اس کے بعد دوسرا ارشاد فرمایا وہ یہ کہ عورت کا اپنے مکان میں نماز پڑھنا بہتر ہے مسجد نبوی میں حضور ﷺ کے پیچھے نماز پڑھنے سے، اس پر عورتیں بڑی حد تک مسجد نبوی ﷺ میں جانے سے رک گئیں، حضور اقدس ﷺ کی وفات کے بعد حضرت عمر نے اپنی بیوی کو بڑی علمی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔