امام گاؤں میں مردوں کو پھر عورتوں کو عید پڑھائے
سوال
ایک بہت چھوٹی بستی ہے اس میں نماز جمعہ بھی نہیں ہوتی ہے لیکن امام صاحب عیدین کی نماز پڑھاتے ہیں، پہلے جنگل میں مردوں کو پڑھاتے ہیں پھر مسجد میں آ کر تمام مستورات کو نماز عیدین مسجد میں پڑھاتے ہیں جس میں کوئی مرد شریک نہیں ہوتا صرف عورتیں اور امام مرد بعینہ بیچ میں کوئی پردہ حائل ہوئے بغیر پڑھاتے ہیں۔
جواب
جس بستی میں نماز جمعہ جائز نہیں وہاں نماز عید بھی نہیں وہاں نماز عید پڑھنا سخت مکروہ ہے، امام صاحب کا یہ طریقہ شرعاً غلط اور واجب الترک ہے، عورتوں پر شہر میں بھی نماز عید نہیں، چہ جائیکہ چھوٹے گاؤں میں اور وہ بھی اس طرح کہ امام صاحب پہلے مردوں کو پڑھائیں پھر عورتوں کو بے پردہ ان کو توبہ لازم ہے، سب مردوں اور عورتوں کو بھی توبہ لازم ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔