تکبیرات عید بھول گیا
سوال
اگر امام نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیرات زوائد کہنا بھول جائے اور رکوع میں پہونچ کر یاد آئے تو اس کو اب کیا کرنا چاہئے۔ آیا رکوع میں تکبیرات زوائد کہے اور رکوع کی تسبیحات کو ترک کر دے یا رکوع سے اٹھ کر کھڑا ہو کر تکبیرات زوائد کہے اور پھر رکوع کا اعادہ کرے یا کچھ بھی نہ کرے بلکہ رکوع کے بعد سجدہ وغیرہ کر کے سجدہ سہو کرے یا سجدہ سہو بھی نہ کرے اور نماز عید دوبارہ پڑھے؟
جواب
ایسی صورت میں نہ تکبیرات زوائد رکوع میں کہے نہ رکوع سے لوٹ کر کھڑا ہو کر کہے نہ سجدہ سہو کرے کہ ہر صورت میں تشویش ہے اور نمازیوں کی نماز خراب ہونے کا قوی مظنہ ہے ایسی حالت میں سجدہ سہو ساقط ہو جاتا ہے اور نماز کا اعادہ بھی واجب نہیں ہوتا اس مسئلہ میں فقہاء کے دوسرے اقوال بھی ہیں جو کہ بحر، بدائع، فتح القدیر وغیرہ میں مذکور ہیں، لیکن رد المحتار ص ۵۶۱ / ۱ میں علامہ شامی نے اسی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔