الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نماز عید مسجد میں

سوال

(۱) نماز عیدین کو ہمیشہ مسجد میں پڑھنا اور باوجود باہر عید گاہ ہونے کے باہر نہ جانا اور لوگوں کو یہ کہنا کہ باہر جانے کی ضرورت نہیں ہے باوجود یکہ کوئی عذر بھی نہیں ہے۔ (احتياط الظهر) (۲) بعد جمعہ ظہر احتیاطی کے تارک کو قابل ملامت بلکہ کفر کا فتوی اس پر جڑ دینا اور اس کو بہت بُرا کہنا کیا تارک نماز احتیاطی کا فر ہو جاتا ہے یا نہیں؟

جواب

(۱) عید کی نماز عید گاہ میں جا کر پڑھنا سنت ہے۔ اگر کوئی عذر ہو تو مسجد میں بھی درست ہے، اور بلا عذر مسجد میں پڑھنے سے نماز تو ہو جاتی ہے لیکن حضور اکرم ﷺ کے اتباع کی فضیلت حاصل نہیں ہوتی نیز باہر جا کر ادا کرنے میں کچھ اور بھی مصالح ہیں وہ بھی اس صورت میں فوت ہوتی ہیں اگر کوئی شخص خود عید گاہ میں نہ جائے تو بلا وجہ دوسروں کو جانے سے نہیں روکنا چاہئے۔ (۲)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو