جو شخص قربانی نہ کرے اس کے ذمہ نماز عید
سوال
زید کے پاس ساڑھے باون تولہ چاندی موجود تھی مگر جب قربانی کا وقت آیا تو اسکے پاس نقد روپیہ نہیں تھا اور نہ گھر میں کوئی بکرا تھا اس وجہ سے قربانی نہیں کی، اس حالت میں زید عید گاہ پر نماز پڑھنے کیلئے جا سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
عید کی نماز کا حکم مستقل ہے، قربانی کا حکم مستقل ہے، اگر کوئی شخص با وجود وسعت کے قربانی نہ کرے تو اسکے ذمہ واجب باقی رہ گیا جسکے ترک سے وہ گنہگار ہوا، اسکی قیمت کا صدقہ کرنا واجب ہو گا، مگر اس کی وجہ سے اس سے نماز عید ساقط نہیں ہوتی اور نہ اس کو عید گاہ جانے سے روکا جائیگا اور نماز عید سے پہلے تو قربانی واجب بھی نہیں، اس لئے اس وقت تو اس کا سوال ہی بے محل ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔