باہر کا آدمی بھی عید کی نماز پڑھا سکتا ہے
سوال
رمضان شریف میں تراویح کی نماز کیلئے حافظ بھوپال سے بلائے گئے، انھوں نے رمضان کی ۲۶ / تاریخ تک قرآن سنایا، انجمن اسلامیہ کے اراکین و عہدہ داروں نے عید کی نماز پڑھانے کیلئے روک لیا چونکہ عید گاہ کا انتظام انجمن ہی کے ذمہ ہے لیکن چند لوگوں کو یہ اعتراض ہوا کہ کوئی باہر کا آدمی عید کی نماز نہیں پڑھا سکتا، اس شہر میں دو مسجدیں ہیں، جامع مسجد کے پیش امام نابینا ہیں اور کچھ لوگ انکے پیچھے نماز نہیں پڑھتے، مطلب یہ کہ اکثریت ایسے ہی لوگوں کی ہے، اس سلسلہ میں بھی مخالفین نے یہ کہا کہ عید گاہ پر دو جماعتیں اور دو خطبہ نہیں…
جواب
نماز عید باہر کا آدمی پڑھا دے تب بھی ادا ہو جائیگی، اسکی وجہ سے مستقل دوسری جماعت کرنا ٹھیک نہیں خاص کر وہ بھی اسی عید گاہ میں یہ ناپسند ہے، تاہم نماز سب کی ہوگئی آئندہ ایسا نہ کریں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔