شہادت دیر سے پہونچے تو نماز عید کو مؤخر کیا جائے
سوال
زوال سے ایک دو گھنٹہ پہلے چاند کی خبر آ وے تو عید کی نماز دوسرے روز پڑھنا جائز ہے یا نہیں۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ عید گاہ میں صفیں بچھانے کا کام ایک دو گھنٹے میں نہیں ہو سکتا۔ وضو وغیرہ میں بھی کچھ وقت لگتا ہے تو یہ عذر شرعاً معتبر ہے یا نہیں؟ بغیر صفوں کے عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب
اگر چاند کا ثبوت قبل زوال ایسے وقت ہو گیا کہ نمازی عیدگاہ میں وضو کر کے آسکتے ہیں اور زوال سے پہلے نماز ادا کر سکتے ہیں تو محض صفیں بچھانے کی وجہ سے آئندہ روز کیلئے نماز کو مؤخر نہ کیا جائے، اگر اتنا وقت بھی نہیں کہ وضو کر کے نماز کیلئے جمع ہوسکیں تو آئندہ روز کیلئے مؤخر کر دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔