بڑی جامع مسجد ہوتے ہوئے دوسری جگہ جمعہ قائم کرنا
سوال
قصبہ میں نان پارہ کی آبادی تقریباً پچیس ہزار ہے اس میں تقریباً ۱۵ر ہزار مسلمان ہیں ان میں تقریباً ساڑھے سات ہزار مسلمان بریلوی مکتبہ فکر کے اور ساڑھے سات دیوبندی مکتبہ فکر کے ہیں ظاہر ہے کہ اس تعداد میں عورتوں اور بچوں کی تعداد زائد ہوگی، اس طرح تقریباً ڈھائی تین ہزار ایسے مردوں کا اندازہ کیا جا سکتا ہے جن کی نماز جمعہ کے لئے ایک جامع مسجد کی ضرورت ہے کہ جہاں وہ سب نماز جمعہ ادا کر سکیں۔
جواب
جمعہ کے لئے ایک بڑی جامع مسجد کا ہونا اعلیٰ وانسب ہے، تاکہ سب مسلمان متفق ہو کر اس فرض کو بطور شعار ادا کریں۔ تھوڑی سی سہولت کے لئے جگہ جگہ جمعہ قائم کرنے سے یہ مصلحت حاصل نہیں ہوتی بڑی جامع مسجد کا غیر آباد ہو جانا اور دینی ادارہ کو نقصان پہنچانا مستقل خسارہ ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ پرانی جامع مسجد میں سب ملکر جمعہ ادا کیا کریں اگر چہ دوسری مسجدوں میں جمعہ پڑھنے سے بھی فریضہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔