غسل جمعہ وعید کا وقت
سوال
عیدین کے دن قبل طلوع فجر یا قبل طلوع شمس اگر کوئی شخص غسل کرے تو اس سے عیدین کی سنت ادا ہو سکتی ہے یا نہیں؟ بہشتی گوہر میں ہے کہ عیدین کے دن بعد فجر غسل ان لوگوں پر کرنا سنت ہے جن پر عیدین کی نماز واجب ہے۔ مالا بد منہ میں ہے کہ روز عید الفطر سنت آنست کہ اول چیزی بخورد و صدقہ فطر دهد، و مسواک کند و غسل کند و احسن ثیاب بپوشد و خوشبو استعمال نماید و غیره اب سوال یہ ہے کہ بعد فجر و روز کی قید سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص طلوع فجر سے قبل غسل کرے تو اس سے سنت ادا نہیں ہو گی ! اب اس کا حکم کیا ہے؟
جواب
اگر کوئی آدمی طلوع فجر کے بعد غسل کرے اور نماز عید تک حدث لاحق نہ ہو تو اس کی سنت بالاتفاق ادا ہوگی ! اگر طلوع فجر سے قبل غسل کیا اور اسی طہارت سے نماز عید اداء کی تو امام ابو یوسف کے نزدیک سنت ادا ہو گئی مگر حسن کے نزدیک ادا نہیں ہوئی۔ اگر درمیان میں حدث لاحق ہو گیا اور پھر وضوء کی ضرورت پیش آئی تو کسی کے نزدیک سنت ادا نہیں ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔