الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مزارع متعددہ میں تعدد جمعہ

سوال

ایک موضع مار کھم انٹ ضلع دہرہ دون میں ہے جس کا نقشہ منسلکہ عریضہ ہذا خدمت میں پیش ہے موضع مذکور کی آبادی مردم شماری جملہ مذاہب کی تقریباً چار ہزار ہے یہ آبادی چودہ مزرعہ جات جو موضع مذکور کے ہیں مشتمل ہے۔ مزرعہ ۵ بڑول والا یہ مسجد ہے مسلمانان کی بڑی آبادی ہے مسجد مذکور میں پیش امام بدعتی خیال کا ہے اور اس درجہ خیال ناقص ہے کہ حقیقہ اہل دیو بند کو کافر کہتا ہے اپنے اہل گروہ سے کہلاتا ہے اس کی نسبت فتاوی حاصل کئے جاچکے ہیں اور وہ نماز پڑھانے کے ناقابل ٹھہرا دیا جا چکا ہے چونکہ اس مزرعہ کے پیشتر اشخاص جو اسی کے خیال…

جواب

اگر یہ موضع ایک ہی ہے اور مزرعہ جات میں زیادہ فصل نہیں نہ وہ مستقل آبادی ہے بلکہ مجموعہ مل کر ایک ہی آبادی اور بستی ہے تو اس میں بصورت موجودہ دوسری جگہ جمعہ پڑھنا شرعاً درست ہے کیونکہ حنفیہ کے نزدیک جس بستی میں جمعہ درست ہوتا ہے اس میں متعدد جگہ بھی جمعہ درست ہوتا ہے اور جس بستی میں جمعہ درست نہیں ہوتا ہے اس میں ایک جگہ بھی جمعہ درست نہیں ہوتا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو