اذان ثانی سے قبل لَقَدْ جَاءَ كُمُ پڑھنا اور درمیان خطبہ زور سے درود پڑھنا
سوال
قبل اذان ثانیہ جمعہ پر تعوذ پڑھ کر لَقَدْ جَاءَ كُمُ الخ . اور جسوقت امام خطبہ دیتا ہے اور جس وقت اِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ الخ . پڑھتا ہے تو مقتدی بڑے زور زور سے درود شریف پڑھتے ہیں۔ بظاہر واذا خرج الامام لاصلوة ولا كلام کے مخالف معلوم ہوتا ہے اسکی وضاحت فرمائیں۔ نیز جو اذان میں درود شریف باواز بلند پڑھتے ہیں پیش کرتا ہے کہ در مختار یا ردمختار میں استحباب کا قول نقل کیا ہے۔
جواب
جمعہ کی اذان ثانی سے قبل تعوذ اور آیت لَقَدْ جَاءَ كُمُ الخ پڑھنا حدیث وفقہ سے ثابت نہیں، خطبہ میں خطیب کے اِنَّ اللهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ الخ پڑھنے پر حاضرین کا بلند آواز سے درود شریف پڑھنا مکروہ ہے، بلکہ ایسے وقت دل میں درود شریف پڑھنا چاہئے جیسا کہ درمختار، ردمختار میں مذکور ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔