خطبہ کس زینہ پر ہو؟ حضرت عثمان پر اعتراض
سوال
خطبہ منبر کے تینوں زینوں سے لے کر کون سے زینہ سے پڑھنا چاہئے؟ پہلے یا دوسرے یا تیسرے سے؟ (۲) اگر دوسرے یا تیسرے سے پڑھنا چاہئے تو کیوں؟ اگر نہیں تو کیوں؟ (۳) اگر کوئی پہلے سے پڑھتا ہے یا پڑھنے کو گناہ نہ سمجھے تو اس پر کیا جرم عائد ہوتا ہے۔ اور حضرت ابو بکر و عمر نے مسجد نبوی کے منبر پر دوسرے یا تیسرے سے پڑھا تھا، تو یہ خاص اس منبر کے لئے تھا یا اور کے لئے بھی یہی حکم ہے۔ حضرت عثمان ” پر اعتراض حضرات صحابہ کرام و بلوائیوں کا تھا یا صرف بلوائیوں کا؟ (۴) علماء کا معمول کیا رہا ہے؟
جواب
(ا/تا ۴/) تیسرے زینہ سے پڑھنا منقول ہے۔ پہلے اور دوسرے زینہ سے پڑھنا بھی ممنوع نہیں کذا فی فیض الباری علماء کا معمول بھی سب طرح کا ہے۔ کسی خاص زینہ کی پابندی نہیں کہ اس کے خلاف ممنوع ہو۔ حضرت عثمان پر اعتراض عامہ مخالفین کرتے تھے جیسا کہ فتح الباری میں تفصیل مذکور ہے، ان کی ریشہ دوانیوں سے گاہ بگاہ مخلصین کو بھی شبہات پیدا ہو جاتے تھے مگر وہ دیر پا نہیں ہوتے تھے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔