اذان خطبہ کا جواب
سوال
جمعہ کی دوسری اذان کے وقت جب امام خطبہ کے لیے کھڑا ہو جائے جواب اذان اور ایجاب دعاء جائز ہے یا نہیں؟ بعض علما منع فرماتے ہیں اور بعض جائز فرماتے ہیں ہدایہ شریف میں حاشیہ پر عبد الحی در مختار کا قول رد کرتے ہیں آپ بحوالہ کتب فتویٰ عنایت فرمائیں کونسا قول صحیح ہے؟
جواب
ان عبارات سے معلوم ہوا کہ اذان خطبہ کا زبان سے جواب نہ دیا جائے مولانا عبدالحی صاحب نے نفع المفتی والسائل میں ان عبارت سے اس مسئلہ کو اولاً لکھا ہے۔ اس کے بعد اس پر نظر قائم کی ہے اور فرماتے ہیں قلت فيه نظر فإن المكروه عند ذلك عند أبي حنيفة رحمه الله هو الكلام الدنيوي والاجابة كلام ديني الخ یعنی اس سے کلام دنیوی کی ممانعت ہے اور جواب اذان کلام دنیوی نہیں بلکہ کلام دینی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔