الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بے خبری میں شیعہ تبرائی سے نابالغہ کا نکاح ہو گیا

سوال

ایک شخص نے ساردہ بل کے ابتدائی زمانہ میں اپنی نابالغہ کا نکاح ایک شخص کے نابالغ لڑکے کے ساتھ کر دیا تھا لیکن بعد کو معلوم ہوا کہ یہ دوسرا شخص مذہبا شیعہ اور فرقہ تبرائیہ میں سے ہے اور لڑکی بالغ ہونے کے بعد اس لڑکے کے یہاں گھر رہ کر بھی آئی ہے، لیکن لڑکے کو اتنا خبط الحواس پایا کہ جس سے توقع بھی نہیں کی جاسکتی کہ وہ لڑکی کا پیٹ مانگ مانگ کر بھر دے اور قومی کے اعتبار سے اتنا ضعیف کہ نہ گفتگو کر سکے اور نہ بیوی سے جماع کر سکنے پر قادر ہے، اب جواب طلب یہ امر ہے کہ اس لڑکی کا نکاح حالت نابالغیت میں سے جو مذہبا شیعہ اور…

جواب

فرقہ تبرائیہ کی تکفیر میں اکثر علماء کی تصریحات موجود ہیں، مگر بعض نے انکار بھی کیا ہے لہذا صورت مسئولہ میں زوجہ کو چاہئے کہ عدالت مسلمہ میں مقدمہ پیش کرے کہ یہ شخص میرے حقوق ادا نہیں کرتا حاکم مسلم واقعات کی تحقیق وتفتیش کے بعد اگر زوجہ کا مطالبہ صحیح ثابت ہو تو شوہر سے طلاق دلاوے یا خلع کرادے یا نکاح فسخ کر دے رسالہ حیلہ ناجزہ میں تفریق اور فسخ نکاح کی صورت تفصیل سے درج ہے،…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو