الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ارتداد کے بعد دوبارہ اسلام قبول کرنے سے روکنا

سوال

ایک مسلم عورت نے ایک ہندو مرد سے تعلقات ناجائز قائم کئے اور اسی کے پاس چند سال زندگی گزاری مسلمانوں نے اس کو اس برے فعل سے روکا مگر اس نے ایک بات نہ سنی اور صاف صاف انکار کر دیا اور اسی ہندو کے پاس رہنے لگی اب چند روز سے سخت بیمار ہے اور اس وقت توبہ کر کے مسلمان ہونا چاہتی ہے۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ اب اسلام لانے کی گنجائش ہے یا نہیں؟ چند احباب اس پر اعتراض کرتے ہیں کیوں کہ اگر یہ غلط طریقے کی رسم پڑے کہ پہلے اسلام سے نکل کر غیر مذہب اختیار کرے اور پھر مسلمان ہو جاوے اس کا دوسروں پر برا اثر پڑیگا۔

جواب

اگر وہ دوبارہ اسلام قبول کرنا چاہتی ہے تو ہرگز اس میں رکاوٹ نہ ڈالی جائے کسی کو حق نہیں کہ اسلام لانے سے روکے جو لوگ اس کو اسلام لانے سے منع کرتے ہیں وہ نہایت خطرے میں ہیں ان کے اسلام کی خیر نہیں کسی کے کفر وارتداد سے راضی رہنا خود کفر اور ارتداد ہے (العیاذ باللہ)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو