ارتداد زوجہ سے فسخ نکاح
سوال
ایک عورت عیسائی مذہب اختیار کر لیتی ہے، پھر مسلمان ہو جاتی ہے، آیا اس کا نکاح باقی ہے سابق خاوند سے یا نہیں، بالتفصیل تحریر فرمائیں؟ کہ عیسائی مذہب اختیار کرنے کے بعد خواہ کتنی ہی مدت کے بعد مسلمان ہوا اور مسلمان ہونے کے بعد اگر سابق خاوند کے علاوہ سے نکاح کرے تو کیا حکم ہے، آیا فسخ ہو جائے گا یا نکاح درست ہو جائے گا۔
جواب
صورت مسئولہ میں احناف کی کئی روایتیں ہیں، اس زمانہ میں جو مفتی بہ ہے، وہ یہ ہے کہ عورت کا نکاح اس حرکت سے فسخ نہیں ہوا بلکہ وہ بدستور شو ہر سابق کے نکاح میں باقی ہے، چاہے کتنا ہی زمانہ گذر جائے، اس کا دوسری جگہ نکاح کرنا جائز نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔