ایسی پنچائت میں شرکت جس کے قوانین غیر شرعی ہوں
سوال
ہمارے یہاں انصاری برادری کی پنچائت میں کچھ قوانین ہیں جو کہ شرع محمدی کے مطابق نہیں ہیں مثلاً شادی میں کوئی ولیمہ کرنا چاہے تو پورے گاؤں کی برادری کو بلائے یا پھر پورے محلہ کی برادری کو بلائے اگر دوسرے محلہ کے ایک شخص کو بلائے خواہ وہ اس کا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو تو اس محلہ کی پوری برادری کو بلائے اگر کوئی شخص نماز نہ پڑھے روزہ نہ رکھے جوا کھیلے شراب پیئے اس پر برادری کی کوئی پابندی نہیں اب از روئے شرع ایسی پنچائت میں شامل رہنا بہتر ہے یا علیحد گی بہتر ہے؟
جواب
جبکہ اس کی کوئی بھی بات شرع محمدی کے مطابق نہیں تو پھر وہ شرعی پنچائت نہیں اس میں شرکت سے غیر شرعی باتوں کی تقویت وترویج ہو گی جس کی شرعاً اجازت نہیں ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔