الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ہجرت

سوال

پانچویں پارہ کے نصف کے بعد والے رکوع میں جو آیا ہے کہ فرشتے ایسے لوگوں کی جانیں تکلیف سے نکالیں گے جو کسی جگہ مغلوب ہوں اور وہیں رہتے رہیں۔ باوجود یکہ اللہ کی زمین کشادہ ہے۔ سوائے ان عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کے جن کو دوسری جگہ جانے کا راستہ نہ معلوم ہو دریافت طلب امر یہ ہے کہ یہ صورت کن موقعوں پر لاگو ہوتی ہے اور نزول کا پس منظر کیا ہے۔ نیز ہندوستان سے آج کل کے دور میں کسی اسلامی ملک چلا جانا شرعاً ہجرت کہلائے گا یا نہیں۔

جواب

ابتداء مدینہ طیبہ ہجرت فرمانے کے بعد اسلام قبول ہونے کے لئے ہجرت کرنا لازم تھا پھر جب مکہ معظمہ فتح ہو گیا تو ہجرت کا یہ حکم بھی ختم ہو گیا۔ امام بغوی نے تفسیر میں ایسا ہی لکھا ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مقام پر رہتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو