الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ظلم کی حالت میں ہجرت

سوال

خوف کے وقت میں اپنی بستی چھوڑ کر امن کی جگہ میں چلا جانا جائز ہے یا نہیں؟ جب کہ دو چار کے چلے جانے سے بقیہ مسلمان پریشان ہوں اور ان میں کمزوری ہو جائے اور ایک سلسلہ خالی کرنے کا لگ جاتا ہے اس طرح مسلمان کم ہو جاتے ہیں تو کافر بے دھڑک لوٹ مار کر ڈالتے ہیں؟

جواب

جائز تو ہے لیکن بہت بے مروتی ہے اور مسلمانوں کی ہوا اکھڑ جانے کا سبب ہے اس سے دوسرے مسلمانوں کے دلوں میں بھی خوف وہراس پیدا ہوتا ہے جس سے وہ مغلوب ہو جاتے ہیں یا سب یکجا ہو کر مقابلہ کریں یا ضعفاء اور کمزوروں کی حفاظت کا انتظام کر کے سب منتقل ہوں جب موت کا آنا یقینی ہے اور اس پر ایمان ہے این ماتكونوا يدرككم الموت ولو كنتم فی بروج مشيدة - تو اس طرح ایک ایک دو دو کر کے بھاگنے سے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو