دار الحرب ودار الاسلام
سوال
قبیل رمضان المبارک دار الاسلام ودارالحرب کی تعریف میں چند الفاظ میں احقر کو شبہ ہوا تھا۔ جناب کے ذریعہ سے بندے نے انہی الفاظ کو حل کیا تھا لیکن بندے نے غلطی سے نظر” والحکم من البعض برسم التتار“کے علاوہ بنی قریظہ بالیہود یہ پر نمبر نہیں دیا تھا اس عبارت کا مطلب حل نہیں ہوا۔ لہذا ثانیاً حضور کو تکلیف دیتا ہوں امید ہے کہ حضور اس تکلیف کو گوارہ فرمائیں۔ (۲) دیگر یہ کہ احقر کا زعم تھا کہ تحقیقات الفاظ سے ملک ہندوستان دارالاسلام ہے یا دار الحرب حل ہو جائے۔
جواب
(۱) یہ اصل عبارت فتاوی بزازیہ کی ہے مگر مولانا عبد الحئی نے کچھ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور کہیں کہیں کچھ کتابت کی غلطی بھی ہے۔ چنانچہ عبارت مسئولہ میں منشاء عدم فہم یہی کتابت کی غلطی ہے۔ عبارت اس طرح ہے اور اعلان بيع الخمور واخذالضرائب والمكوس والحكم من البعض برسم التتار کاعلان بني قريظة بالتهود وطلب الحكم من الطاغوت في مقابلة محمد عليه الصلوة والسلام في عهده بالمدينة ومع…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔